عکسِ جنون : Urdu Novel | Romantic Urdu Novel

Novel Cover

عکسِ جنون

اذلان! دیکھو تو، یہ نیلا رنگ مجھ پر کیسا لگ رہا ہے؟" عائزہ نے آئینے کے سامنے گھومتے ہوئے پوچھا۔ اس کی آنکھوں میں شادی کی خوشی صاف جھلک رہی تھی۔

اذلان، جو کمرے کے کونے میں بیٹھا کوئی کتاب پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا، نے ایک نظر عائزہ پر ڈالی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ کہہ دے کہ 'تم پر ہر رنگ جچتا ہے'، لیکن وہ صرف اتنا بول سکا، "ٹھیک ہے، لیکن حمزہ کو شاید شوخ رنگ پسند نہ ہوں۔"

عائزہ نے منہ بسورا، "ہونہہ! حمزہ کو تو میں سادہ لباس میں بھی پسند ہوں۔ تم بس حسد کرنا بند کرو اور یہ بتاؤ کہ تم نے میرے نکاح کا جوڑا ابھی تک کیوں نہیں دیکھا؟" وہ چہکتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس کا بازو ہلا کر کہنے لگی، "تم میرے سب سے پیارے کزن ہو، تمہارے بغیر تو میری زندگی ادھوری ہے۔"

اذلان کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔ وہ جانتا تھا کہ عائزہ کے لیے وہ صرف ایک 'بھائی' یا 'دوست' کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اذلان نے اسے بچپن سے اپنی منگیتر مانا تھا۔ جب عائزہ کے والد نے حمزہ کے امیر خاندان میں اس کا رشتہ طے کیا، تو اذلان کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا تھا۔ مگر اس نے خاموشی اختیار کر لی، ایک ایسی خاموشی جس کے پیچھے طوفان چھپا تھا۔

نکاح سے ایک دن پہلے، اذلان نے حمزہ کو ایک کیفے میں بلایا۔ حمزہ، جو اپنی دولت کے زعم میں تھا، اذلان کو حقارت سے دیکھنے لگا۔ "ہاں بولو، عائزہ کے کزن! کیا کام ہے؟"

اذلان نے میز پر ایک لفافہ رکھا۔ "یہ دیکھو، شاید تمہارا فیصلہ بدل جائے۔"

لفافے میں عائزہ کی کچھ ایسی ایڈیٹ کی ہوئی (Fake) ای میلز اور پیغامات تھے جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ وہ حمزہ سے صرف اس کی دولت کی خاطر شادی کر رہی ہے اور اس کا تعلق پہلے سے کسی اور کے ساتھ ہے۔ حمزہ، جو پہلے ہی شکی مزاج تھا، غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔ "میں اس لڑکی کو سبق سکھاؤں گا!”

شادی والے دن، ہال روشنیوں سے منور تھا۔ عائزہ سرخ جوڑے میں ایک پری لگ رہی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ باہر اس کی تقدیر کا سودا ہو چکا ہے۔

📥 Download Full Novel (Word File)

Post a Comment

0 Comments